نئی دہلی ،31جولائی(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) آسام میں قومی شہریت رجسٹر (این آر سی)سے 40لاکھ لوگوں کے نکالے جانے کے معاملہ پر منگل کو راجیہ سبھا میں زبردست شور وشرابہ ہوا جس کے بعد ایوان کی کارروائی بارہ بجے تک ملتوی کردی گئی۔
راجیہ سبھا میں ترنمول کانگریس ارکان کے ہنگامہ کے مدنظر ایوان کا اجلاس شروع ہونے کے تقریبا دس منٹ بعد ہی ایوان کی کارروائی ملتوی کر دی گئی۔
ادھر لوک سبھا میں آج روہنگیا پناہ گزینوں کا معاملہ اٹھا جس پر جواب دیتے ہوئے داخلی امور کے وزیر مملکت کرن رجیجو نے کہا کہ روہنگیا پناہ گزیں نہیں ہیں بلکہ وہ غیر قانونی طریقہ سے ہندوستان آئے ہیں اور انہیں ملک پر کبھی بوجھ بننے نہیں دیا جائے گا۔
این آر سی کے مسئلہ پر راجیہ سبھا میں بولتے ہوئے بی جے پی صدر امت شاہ نے کہا کہ آپ کے (کانگریس) وزیر اعظم راجیو گاندھی نے آسام معاہدہ پر دستخط کئے تھے۔ یہی معاہدہ این آر سی کی روح تھی۔ آپ اپنے وزیر اعظم کا فیصلہ نافذ نہیں کر پائے، آپ میں ہمت نہیں، ہم میں ہمت ہے۔ اس لئے ہم نے اسے نافذ کیا۔
امت شاہ نے اپوزیشن پارٹیوں سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ یہ 40لاکھ بنگلہ دیشی کس کے ہیں، کس کو بچانا چاہتے ہیں آپ؟ آپ بنگلہ دیشی دراندازوں کو بچانا چاہتے ہیں۔